حقیقت حق

عید میلاد النبی۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted by: mehsoodgrewal on: March 16, 2010

اسلام علیکم!

افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر “جش عید میلاد النبی کی تاریخ”  کے عنوان سے ایک تحریر پڑھی۔ اسی تحریر میں اپنی رائے دی تھی جو کہ ادھوری رہ گئی تھی۔ اسی کو تھوڑے ردوبدل کے ساتھ مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

عید میلاد النبی۔۔۔۔

عید، اجتماعی خوشی کا دن۔  میلاد، ولادت۔  النبی، حضرت محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم۔

جیسا کہ افتخار صاحب نے لکھا کہ رسول اکرم سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کے وصال کا دن آنحضرت صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی وفات کے بعد ۵۰۰ سال تک بطور اجتماعی خوشی نہیں منایا گیا۔

حضرت محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی ولادت کےدن کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور مئورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے، جو کہ ۹، ۱۱، ۱۲ربيع الاول  ہیں۔ مگر آپ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کے اس دنیا سے رحلت فرمانے کے دن پر جو کہ ۱۲ ربيع الاول ہے سبھی اتفاق کرتے ہیں۔

کچھ لوگ کہیں گے کہ کیا، آخر حرج کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرض یے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا، ” آج کے دن میں نے دین مکمل کر دیا”۔جس کے کچھ عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
اس کا مطلب ہوا کہ ہمارا دین، دین اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے۔
اور بدعت ہر وہ عمل ہے جو کہ ثواب کی نیت سے دین کا حصہ سمجھ کر کیا جائے مگر دین کا حصہ نہ ہو، وہ دین کہ جس کو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے مکمل کر دیا ہو۔

یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرنا چایوں گا کہ کچھ لوگ بعض بدعات کو بدعت حسنہ قرار دیتے ہوئے اسے جاری و ساری رکھتے ہیں۔ ان کے لئے عرض ہے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ہےکہ (مفہوم) تمام امور میں سے برے کام (دین میں) خود ساختہ ہیں۔ دین میں تمام خود ساختہ کام بدعت، ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بدعت کو بھلا ہی بدعت حسنہ کہ دیا جائے وہ انسان کو گمراہی کی طرف ہی لے کر جائے گی۔

اب اگر یہ سمجھا جائے کہ تمام لوگ اس کو ثواب کی نیت سے کرتے یا مناتے ہیں غلط ہو گا۔
بہت سے لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چونکہ بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی محبت کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا طریقہ اختیار کیا جائے، خصوصا جب بات یا عمل ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بارے میں ہو۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا ارشاد ہے کفار سے مسابقت پیدا نہ کرو  ورنہ قیامت کے دن انہی میں سے اٹھائے جائو گے۔ تو کیا اس عمل سے ہم عیسائیوں سے مسابقت پیدا نھیں کر رہے۔۔۔۔؟

اسلام نے پورے ہفتہ میں سے ہفتہ اور اتوار کے دن کو چھوڑ کر جمعہ کا دن مقرر کیا کیونکہ وہ یہودونصاری کے لیے تھے۔

جب اس وقت مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے عیدین کے دن مقرر کرنے کی درخواست کی کیونکہ جب مسلمان دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ان کی عید مناتے ہوئے دیکھتے تو ان کا بھی دل چاہتا کہ ہم بھی سال میں کبھی خوشی کا دن منایا کریں۔ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے عیدالفطر اور عید الاضحی کا تحفہ دیا۔ اگر اس دن کی عید کے حوالے سے کوئی اہمیت ہوتی تو اس کو بھی عیدین میں شامل کر دیا جاتا۔

کسی کا بھی یوم ولادت، یا یوم وفات منانا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے اسوہ حسنہ سے ثابت نہیں۔ ایسا تو نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو کسی انسان سے محبت نہ ہو۔ یعنی کہ کسی سے محبت کے اظہار کے لئے یوم ولادت منانا ضروری نہیں۔

آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ،” تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مجھ سے سب سے ذیادہ محبت نہ کرے”

کیا آج آپ ﷺ سے ہماری محبت کا معیار اتنا گر نہیں گیا کہ ہم آپ ﷺ سے محبت کے اظہار کے لئے غیر مسلموں کے طریقے اپناتے ہیں۔

ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم سب یہ بات خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں، صرف انٹرنٹ پر ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی میں بھی۔

قارئین سے درخواست ہے کہ اگر کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔

اور یہ میری پہلی تحریر ہے۔۔۔۔ اپنی آراۡ سے ضرور نوازئیے گا

11 Responses to "عید میلاد النبی۔۔۔۔۔۔۔۔"

آپ نے درست لکھا ہے ۔
ايک واقعہ عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا ہے ۔ ايک صحابی نے پوچھا “بدعت کيا ہے ؟” تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمايا “ايک سنت ہے اور جو سنت نہيں وہ بدعت ہے”

آپ اُردو سيارہ کا رکن بننے کی کوشس کريں جلد از جلد اُن کی شرائط پوری کر کے

انشأ اللہ ضرور۔

اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔آمین

اٰمین۔
بہت بہت شکریہ۔

بارك الله في علمك و سنك

اٰ مین۔
جزاک اللہ خیر۔

سيارہ ميں شموليت مبارک ہو

جناب اردو بلاگنگ میں خوش آمدید!

آپ نے شروعات ہی اختلافی موضوع سے کی ہے جسے شاید اتنا زیادہ سراہا نہ جائے یا شاید کچھ لوگ آپ کے بارے میں ایک خاص قسم کا تاثر بنالیں اور پھر ہر بات کو اُسی تناظر میں دیکھنا شروع کردیں۔

بہر کیف، جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول سے سچی محبت کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں اُنہیں یہی کرنا چاہیے کہ قران اور حدیث سے یہ بات جاننے کی کوشش کریں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت کے تقاضے کیا ہیں اور انہی کے مطابق اپنے عمل کو پرکھنا بھی چاہیے۔ دعا ہے اللہ تعالٰی ہمیں اور آپ کو اس مذہب پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جسے اللہ نے ہمارے لئے پسند کیا اور جس دین پر اللہ کے نبی اور صحابہ نے اپنی زندگی گزاری۔ (آمین)

سيّارہ پر ظاہر ہونے پر خوش آمديد کہتا ہوں

اردو بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید

بارك الله، آپ نی ایک اہم بات کو مختصر اور پر اثر پیراے میں بیان کیا – اللہ کرے زور قلم اور

كل بدعت ضلاله و كل ضلالت في النار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s


  • None
  • عدنان مسعود: اردو بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید بارك الله، آپ نی ایک اہم بات کو مختصر اور پر اثر
  • افتخار اجمل بھوپال: سيّارہ پر ظاہر ہونے پر خوش آمديد کہتا ہوں
  • پھپھے کٹنی: آتے ہی چھٹی يہ کيا بات ہوئی ابھی خوش آمديد پر گزارا کريں باقی تعارف کے بعد

Categories

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.